49

تاج محل دنیا کے سات عجوبوں میں سے “پہلا عجوبہ”۔

جب کبھی بھی دنیا میں محبت کرنے والوں کا ذکر کیا جاتا ہے ، تو اس ذکر میں تاج محل کا نام ضرور آتا ہے۔ تاج محل کو دنیا کے چند حیرت انگیز عجوبوں میں سے ایک عجوبہ مانا جاتا ہے اور دنیا بھر سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ مگر تاج محل کی داستان سے بہت کم لوگ واقف ہے تاج محل حقیقت میں محبت کی ایک زندہ مثال ہے۔ کئی صدیوں سے تاج محل کا ذکر شاعروں کی شاعری کی زینت بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ موسیقار اپنی موسیقی میں اور مصور اپنی تصویروں میں اس کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ دوسری کہانیوں کی طرح اس کہانی کی شروعات بھی ایک دفعہ کا ذکر ہے سے ہوتی ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شہزادہ جس کا نام خرم تھا۔ اسے 15 سال کی عمر میں ایک شہزادی سے محبت ہوگئی تھی۔ ایک روایت کے مطابق ان دونوں نے ایک دوسرے کا پانچ سال تک انتظار کیا تھا ، اور اس پانچ سال کے عرصے کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کو ایک مرتبہ بھی نہیں دیکھا تھا۔ اور پھر 1612ء میں ان دونوں کی شادی ہوگئی۔ سن 1628ء میں شہزادے کو تاج پہنا کر “شاہ جہاں” کا نام دیا گیا۔ مگر اس سب کے باوجود ممتاز کی قسمت میں زیادہ عرصے تک ملکہ بنے رہنا نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ جہاں کے چودھویں بچے کی پیدائش کے بعد 1631ء میں 39 سال کی عمر میں ممتاز وفات پائی تھی۔

ممتاز کی وفات کے بعد شاہ جہاں دکھی ہو گیا تھا اور تاریخ کے مطابق اگلے دو سال تک وہ سوگ مناتا رہا۔ اس دو سال کے عرصے کے دوران پوری سلطنت میں نہ تو کسی قسم کی موسیقی بجائی گئی اور نہ ہی کوئی تقریب یا جشن وغیرہ منعقد کیا گیا۔

شاہ جہاں نے ممتاز کی یاد میں ایک مقبرہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ جس کی شرط یہ تھی کہ ایک ایسا مقبرہ تعمیر کیا جائے جو اس سے پہلے دنیا میں نہ کبھی تعمیر کیا گیا ہو اور نہ کبھی دیکھا گیا ہو تاکہ ممتاز اور شاہ جہاں کی محبت کی یادگار ہمیشہ کے لئے تاریخ کا حصہ بن جائے۔

اس مقبرے کو بنانے کے لیے آگرہ، (موجودہ ہندستان کا شہر) میں دنیا بھر سے خوبصورت سفید ماربل منگوائے گئے تھے۔ تاج کی تعمیر کا آغاز 1632ء میں ممتاز کی وفات کے بعد ہوا اور 1653ء میں جا کر مکمل ہوا۔ کہتے ہیں کہ تاج محل کی تعمیر پر “تین کروڑ بیس لاکھ روپے” خرچ کیے گئے۔ اس کی تعمیر میں استاد تاج احمد لاہوری اور ان کے بہترین کاریگروں نے کی۔ کہتے ہیں کہ شاہ جہاں نے محل کی تعمیر کے بعد سب کا کاریگروں کے ہاتھ کٹوادیے تھے، تاکہ ہے وہ دوبارہ اس جیسی عمارت نہ بناسکیں۔ اس کے بعد اس مقبرے کا نام “تاج محل” رکھ دیا گیا۔


تاج محل کی تزئین و آرائش میں کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی گی یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔ تاج محل کا ڈیزائن عربی سٹائل کا ہے۔ جس میں مسلم نقش بنائے گئے ہیں اور قیمتی پتھر بھی جوڑے گئے ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شاہ جہاں اپنا مزار بھی دریا کے دوسری طرف بنوانا چاہتا تھا جو کہ تاج محل سے زیادہ خوبصورت اورمہنگا تعمیر ہونا تھا اور جسے کالے ماربل سے تعمیر کیا جانا تھا۔ مگر اس کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا اور آخرکار شاہ جہاں نے مرنے کے بعد تاج محل کے اندر ہی جگہ پائی۔

اس واقعے کو چار صدیاں بیت چکی ہیں مگر اس کے باوجود تاج محل ہر سال لاکھوں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ محل اپنے وجود کے ختم ہونے تک اسی طرح توجہ کا مرکز بنا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں