30

سیف الملوک جھیل کی سیر اور داستان

سیف الملوک جھیل کو دی گارڈین کی جانب سے پاکستان کا پانچواں خوبصورت تفریحی مقام قرار دیا ہے اور اسے زمین پر جنت کہا ہے۔ ملکہ پربت کے اونچے اور برف سے ڈھکے پہاڑوں  کی آغوش میں واقع نیلے شفاف پانی کی یہ جھیل اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پاکستانی اور غیر ملکی سیاحوں کے دلوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔

یہ کہاں واقع ہے؟

  یہ قدرتی جھیل پاکستان کے  شمالی علاقہ جات میں  وادی کاغان  ناران کے  ہے میں واقع ہے اور یہ ضلح مانسرہ خیبر پختون خواہ کے شمال مشرقی علاقہ ہے۔ یہ پاکستان کی سب سے زیادہ اونچائی پر واقعہ جھیل ہ۔ے اس کی اونچائی سطح سمندر سے10578 فٹ اور 3224 میٹر ہے۔

سیاحوں کی پسندیدہ سرگرمیاں

یہ جھیل ایک پیالے کی مانند ہے جس میں مختلف برفیلے پہاڑوں سے آنے والا پانی آکے جمع ہوتا ہے۔ اس میں ٹراؤٹ مچھلیوں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ ٹروٹ مچھلیوں کا شکار وادی کاغان میں مشہور ہے۔

سردیوں میں برف باری کی وجہ سے جھیل  مکمل طور پر جم جاتی ہے۔ جون سے ستمبر تک سیاحوں کا جم غفیر اس مقام کا رخ کرتا ہے۔ اس خوبصورت جگہ کا موسم دن کے وقت انتہائی خوشگوار ہوتا ہے (تقریباً 15 سے 20 سینٹی گریڈ)۔ جبکہ رات کو درجہ حرارت کم ہو کے 3 ڈگری ہوجاتا ہے جب بقیہ ملک میں گرمیاں عروج پر ہوتی ہے تو کون ایسی جگہ پر جانا پسند نہیں کرے گا۔

ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے کشتی رانی کی سہولت بھی موجود ہے  لیکن سیاحوں کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب تک جھیل کی سہی گہرائی کا کسی کو علم نہیں، اور علاقہ دور دراز ہونے کی وجہ سے ریسکیو کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔ لہذا کشتی رانی کرتے وقت اپنا خیال خود رکھیں یہاں پر گھڑسواری کی سہولت بھی موجود ہے جس سے مقامی افراد کا روزگار بھی چلتا ہے۔

پورے چاند کے وقت کیمپ لگانا کسی پریوں کی زمین میں بیٹھنے کے مترادف ہے۔ ان لوگوں کے لئے یہ  ترغیب  کی گئی ہے کہ جو آسمان پر موجود پانچ ارب ستاروں میں چاند کو چمکتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

سیف الملوک کی پریوں کی کہانی

اس شاندار جھیل کی تاریخ بہت مشہور ہے اور پوری دنیا کے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ کہانی ایک شہزادہ سیف الملوک کی ہے، جس کو پریوں کی شہزادی بدی الجمال سے محبت ہو گئی تھی۔

اس کہانی کو صوفی بزرگ اور پنجابی ہندکو کے شاعر میاں محمد بخش نے ایک نظم میں تبدیل کردیا۔ بالاکوٹ کے رہائشی احمد حسین مجاہد نے اسی نظم کا اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ پریوں اور بدروحوں کی ایک جگہ ہے ، جو موسم کی انتہا سے اپنا غصہ ظاہر کرتے ہیں۔

ایک کہانی سنانے والے نے بیان کیا “میں نے پری نہیں دیکھی ، لیکن میں نے خدا کی شان دیکھی ہے۔ ہر ماہ ، قمری مہینے کی 14 ویں رات کو ، جھیل آئینے کی طرح ہوتی ہے – پہاڑوں ، آسمان ، بے شمار چمکتے ستارے ، چاند کی چمکتی ہوئی مدار میں فرق دیکھنے کے باوجود آپ شاد و نادر ہی اس کو بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ دیکھنے کے لئے کے یہاں واقع میں پریاں ہیں۔ میں نے بہت سی رات  یہاں ڈھلوان پر روشنی ، تیرتی کرنیں بھی دیکھی ہیں ، اور انہیں پتھروں کے نیچے غائب ہوتے بھی  دیکھا تھا۔ میں نے کوئی  پری ، بدی الجمال کو نہیں دیکھا ، لیکن میں نے خدا کی شان کو ضرور دیکھا ہے”۔

سیف الملوک مصر کا شہزادہ تھا۔ اس کے پاس ایک بڑے مقدار میں  خزانہ تھا جو اسے اپنے باپ دادا سے وراثت میں ملا تھا۔ خزانے پر دو مہر لگے تھے۔ ایک رخ پرسیدکی تصویرتھی اور دوسری طرف بدیع الجمال کی۔

جب سیف نے پری کی تصویر دیکھی تواسے  فورا ہی اس سے پیار ہوگیا۔ اس کے بعد وہ اس کی تلاش کے لئے گھر سے نکلا ، اس سفر کو مکمل ہونے میں چھ سال لگے۔ ایک دن ایک ولی نے مصر کی ایک گلی میں سیف سے ملاقات کی اور اسے سلیمانی ٹوپی دی ،اوراس نے شہزادے سے  کہا  کہ یہ شہزادے کو اپنی مطلوبہ جگہ لے جائے گا۔ شہزادے کے صلاح کار  نے شہزادے سے کہا کہ وہ پری کو ایک جھیل میں پائے گا لیکن اسے متعدد دشوار امتحانات گزرنا پڑے گا  اور اس کے حصول کے دعا بھی کی ، کیونکہ وہ پریوں کی ملکہ تھی اور شہزادہ انسان تھا۔ انسانی آنکھ کبھی بھی شیطان یا پری کو نہیں دیکھ سکتی۔

سیف نے اس جگہ پہنچ کر چلہ کاٹنا شروع کیا (مسلسل 40 دن تک دعا کی)۔ دن بدن اس کی طبیعت خراب ہوتی جارہی تھی  لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور دعا مانگی۔ بغیر کسی کھانے اور آرام کے 40 دن تک مسلسل دعا کے بعد وہ تھک گیا اور کمزور ہوگیا۔ یہ مہینے کی 14 ویں رات تھی اور اس نے سوچا ، “شاید آج کی رات میں اسے دیکھوں گا۔” پھر اچانک اس نے دیکھا کہ پریوں ملکہ اپنی نوکرانیوں کے ساتھ نہانے کے لئے جھیل کی طرف آرہی ہے۔ وہ گہری کالی بالوں اور روشن آنکھوں سے انتہائی خوبصورت تھی۔ وہ واقعی دیکھنے کے لئے ایک بہترین منظر تھا۔

 بدیع الجمال سے بات کرنے کے بعد ، سیف کو معلوم ہوا کہ وہ پچھلے 10 سالوں سے سفید دیئو (سفید دیو) کے محل  کوہ قاف کے ایک قید خانےمیں قید تھی۔  سفید  دیو کوبھی  پری سے  محبت تھی۔ پریوں کی ملکہ کی کہانی سننے کے بعد سیف نے اسے وہاں سے لے جانے کا فیصلہ کیا  اور وادی سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ جب سفید دیو کو اس کا علم ہوا تو اس نے غصے میں آکر جھیل میں ایک طوفان  کھڑا کردیا ، جس کے نتیجے میں وادی کاغان میں سیلاب آگیا ۔ وہ (پری اور شہزادہ) ناران سے چند میل دور ایک قبرستان میں چھپ گئے ، لیکن سیلاب کی وجہ سے سیف اور بادی الجمال نے  جھیل کے قریب ایک غار میں پناہ لےلی۔

بہت سی  باتیں مشہور ہیں کہ سیف الملوک سے چند میل کے فاصلے پر ، وادی کاغان کی انسو جھیل ، سفید دیو کے آنسوؤں سے پیدا ہوئی جب اسے پتہ چلا کہ پری چلی گئی ہے۔ کلاسیکی داستان کے مطابق ، شہزادہ اورپریوں کی  ملکہ آج بھی اسی غار میں رہتے ہیں اور ہر قمری مہینے کی 14 ویں رات کو پانی کی سطح کے اوپر رقص کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں