20

کرپٹو کرنسی یا بٹ کوائن کیا ہے اور یہ کیوں بنائی گئی

کرپٹو کرنسی یا بٹ کوائن کیا ہے اور یہ کیوں بنائی گئی


اس تحریر میں ہم آپ کو بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کے بارے میں اہم معلومات آپ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی ہمارے موجودہ دور کا ایک ایسا انقلاب ہے جس نے دنیا بھر کے مالیاتی اداروں میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور یہ ایسا انقلاب ہے جس نے نسل انسانی کے تاریخ میں سب سے زیادہ ارب پتی بنائے ہیں۔ انسانی تاریخ میں آج تک جتنے بھی انقلابات آئے ہیں چاہے آپ کمپیوٹر کا انقلاب دیکھ لیں یا پھر انڈسٹریل انقلاب آیا لیکن یہ سارے انقلابات مل کر بھی انسان کی مالی حالت پر اتنا اثر نہیں ڈالا جتنا کرپٹو کرنسی کے انقلاب نے ڈالا ہے۔


اس تحریر میں ہم آپ کو کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ایسی معلومات فراہم کریں گے کہ آپ بھی ایک بار اس کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کرپٹو کرنسی چونکہ ایک کرنسی ہے یعنی پیسہ ہے تو اس کی مثال بھی ہم سادہ سی لیں گے تاکہ عام کرنسی اور کرپٹو کرنسی میں فرق واضح ہو سکے۔


مثال کچھ یوں ہے کہ آپ ایک دکان پر جاتے ہیں اور آپ ایک کاغذ پر 5000 لکھ دیتے ہیں اور دوکاندار سے کہتے ہیں کہ مجھے فلاں فلاں چیز  دے دیں میں آپ کو یہ پانچ ہزار والا کاغذ دوں گا تو دوکاندار کہے گا کہ ایسا تو میں نہیں کر سکتا کیونکہ یہ تو صرف ایک عام کاغذ ہے جس پر 5000 لکھا ہوا ہے۔ اس کے بدلے میں اگر آپ دوکاندار کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ 5000 ہزار والا نوٹ دیں گے تو وہ بلا جھجک آپ کو وہ تمام اشیاء فراہم کردے گا جس کا آپ نے مطالبہ کیا ہوگا۔ اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ پیسہ اصلی یا نقلی بھی ہو سکتا ہے اور آپ کسی بھی ملک چلے جائیں ای وہاں کے کے سینٹرل بینک سے منطور شدہ کرنسی ہی آپ سے وصول کریں گے نہ کہ آپ کی طرف سے دیا گیا کوئی بھی کاغذ کا ٹکڑا وغیرہ۔ پاکستان میں کاغذ پر اسٹیٹ بینک کی ضمانت سے جو بھی رقم لکھی جاتی ہے اس نوٹ کی اتنی ہی قیمت ہو جاتی ہے۔

 


اب ہم آپ کو پیسے کا ایک دوسرا پہلو بھی بتائیں گے جو اسی مثال کا حصہ ہے۔ اگر آپ اسی دوکاندار کو کوئی سونے کی چیز دے دیں یا سونا دے دیں اور اس سے کہیں ہیں کہ مجھے فلاں فلاں چیز دے دیں تو وہ بلاجھجک آپ کو طلب کردہ چیزیں فراہم کر دے گا۔ جیسا کہ آپ نے اوپر پڑھا کے کرنسی نوٹ کے لیے آپ کو کسی سنٹرل بینک کی ضمانت کی ضرورت ہوتی ہے تب ہی وہ کارآمد ہو گا لیکن دوسرے پہلو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سونے کی چیز کے لیے آپ کو کسی قسم کی ضمانت کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ دنیا کے کسی  بھی ملک میں چلے جائیں اور آپ وہاں انہیں سونا دیں اور ان سے کوئی چیز خریدنا چاہیں تو وہ سے کوئی سوال کیے بغیر آپ کو وہ چیز فروخت کردے گا۔

کرپٹو کرنسی کی بھی سونے کی جیسے کی مثال ہے اور اسے ہم ڈیجیٹل گولڈ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹو کرنسی ہے تو آپ کو کسی قسم کی ضمانت کی ضرورت نہیں ہے آپ کسی بھی ملک میں کہیں بھی اس سے خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی ایک کمپیوٹر کا سافٹ ویئر پروگرام ہے جو آپ کے کمپیوٹر میں پڑا ہوتا ہے اور آپ اس سے آن لائن کوئی بھی ٹرانزیکشن باآسانی کر سکتے ہیں۔


کرپٹو کرنسی ہے کیا اور یہ کیسے وجود میں آئی؟


نوے کی دہائی میں جتنے بھی ہمارے اکانومسٹ تھے انکی سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ کیسے ہم ملکوں کے درمیان ہونے والی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز کو تیز تر اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے 21 صدی کے آغاز میں سوشی ناگاموتو کے نام کا ایک نامعلوم شخص یا اسے کچھ افراد پر مشتمل گروپ کہہ لیں انہوں نے ایک فلسفہ پیش کیا ان کے اس فلسفے کے مطابق انہوں نے سونے کی مثال دی کہ جس میں ہمیں کسی بھی سینٹرل بینک کی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوتی تو اس قسم کا کوئی معاشی نظام یا کرنسی متعارف کی جائے۔ اس نظام کے مطابق اے حقیقی پیسے کا تصوّر ختم کر کے کے ایک ایسا ڈیجیٹل نظام پیش کیا جائے کہ جس میں صرف خریدار اور تاجر کے درمیان ہیں خریدوفروخت تو اس میں کسی تیسرے فریق کی  ضمانت کی ضرورت پیش نہ آئے۔


سوشی ناگاموتو کا یہ تصور اور انقلاب برپا کر دینے والا تھا اس پر شروعات میں میں تنقید بھی ہوتی رہی کہ جب تک اس کرنسی کی سینٹرل بینک سے کوئی گارنٹی وغیرہ نہیں ہوگی تو اس کی  اور کی حیثیت کیا ہوگی؟ کیونکہ کرنسی کے معاملے میں کسی بھی سنٹرل باڈی کی طرف سے دی گئی ضمانت پیسے کے اصلی یا نقلی ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے اور اس کی قیمت بھی واضح ہو جاتی ہے۔


لیکن آپ اگر پاکستان میں کسی سے کرپٹو کرنسی کے بارے میں پوچھ لیں تو شاید ہی کسی کو اس کے بارے میں پتہ ہو جب کہ دنیا میں اس نے معاشی انقلاب برپا کر رکھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی ی بٹ کوائن کی ایک سکے کی قیمت چالیس ہزار ڈالر سے اوپر ہے جو پاکستان کے تقریباً ساٹھ لاکھ روپے بنتے ہیں۔ جہاں کرپٹو کرنسی نے دنیا میں انقلاب برپا کر رکھا ہے وہیں پر پاکستان میں اس پر پابندی عائد ہے۔


کرپٹو کرنسی کی خصوصیات


١۔ کرپٹو کرنسی کو سونے کی طرح کسی بھی سنٹرل باڈی کی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوتی۔


٢۔ کرپٹو کرنسی بھی سونے کی طرح مائننگ کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے لیکن یہ مائننگ کمپیوٹر کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس میں آپ کسی ایسے کمپیوٹر کو ١٠٠ ڈالر بھیجتے ہیں جو کرپٹو کرنسی کی مائننگ کر رہا ہوتا ہے وہ آپ کو ان سو ڈالرز کے بدلے میں میں کرپٹو کرنسی فراہم کرتا ہے اور یوں کرنسی بغیر کسی سینٹرل باڈی کی ضمانت کے بغیر بنائی جاتی ہے۔

 


٣۔ یہ سوال بھی انسان کے ذہن میں اجاگر ہوتا ہے کہ جس کرنسی کا کوئی وجود ہی نہ ہو جس کی کوئی ضمانت نہ ہو اس پر سرمایہ کاری کیوں کی جائے۔ تو اس حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے بڑے امیر لوگ اور ادارے کرپٹو کرنسی میں اپنے پیسے انویسٹ کرتے جا رہے ہیں تو یہ سوچنا کہ اگر آج ہی انٹرنیٹ بند ہو گیا تو لوگوں کے کھربوں روپے ڈوب جائیں گے اب یہ ایک بے تکی سی بات بنتی جا رہی ہے آخر ڈیجیٹل کرنسی کا کوئی تو مستقبل ہے جو اس میں بڑی بڑی کمپنیاں اور لوگ اپنے پیسے انویسٹ کر رہے ہیں۔


تو یہ ہماری کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ایک معلوماتی تحریر امید کرتے ہیں کہ آپ کو اس تحریر سے کرپٹو کرنسی اور اس کے بنائے جانے کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو گئی ہونگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں