32

چیچن اٹزع شہر دنیا کے سات عجوبوں میں سے “چھٹا عجوبہ”۔

چیچن اٹزع کا مطلب ہے اٹزع کے کنویں کا منہ۔ چیچن اٹزع کے قریب دو بہت چوڑے قدرتی کنویں موجود ہیں۔ جن کی نسبت سے اس شہر کا نام رکھا گیا۔ جبکہ اٹزع اس مایا قبیلے کا نام تھا، جس نے یہ شہر آباد کیا تھا۔ ان دو کنووں میں سے ایک کو انسانی قربانی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ قحط، سیلاب، وبائی امراض یا دوسرے قدرتی آفات کے وقت کنویں میں مرد، خواتین اور بچوں کو قربانی کے طور پر پھینک دیا جاتا تھا۔

میکسیکو کی ریاست یوکٹان میں دس کلو میٹر رقبے پر محیط چیچن اٹزع میں کاسٹیلو جیسے انگلیش میں کیسل اور اردو میں قلعہ بھی کہتے ہیں۔ سب سے مشہور ترین عمارت ہے۔

کاسٹیلو اہرام مصر کی طرز کا اہرام ہے۔ اس کے چاروں اطراف میں 91 چھوٹی سیڑیاں موجود ہیں، جو کہ کل ملا کر 364 بنتی ہیں۔ سب سے اوپر ایک سیڑھی ہے جو کہ پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ جو اس ٹوٹل کو سال کے 365 دنوں کے برابر کرتی ہے۔ چیچن اٹزع تقریبا 600ء قبل از مسیح میں اہمیت اختیار کر گیا اور غالبا 900ء سے 1050ء عیسوی میں آس پاس کے علاقوں کا طاقتور مرکز بن گیا۔

یہ مایا تہذیب کے مشہور ترین شہروں میں سے ایک تھا اور اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ یہ متن اور نسل تھا۔ یعنی کے اس میں مختلف نسلوں اور قبائل کے لوگ آباد تھے۔ اس کا ثبوت اس دور کے مختلف قوموں میں رائج فن تعمیر کے نمونوں کی چیچن اٹزع میں موجودگی سے ملتا ہے۔ شہر کی تمام تعمیرات میں پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

چیچن اٹزع کے لوگ محنتی اور ہنر مند ہوتے تھے جو کہ فن تعمیر، مجسمہ سازی اور دیگر ہنر میں کافی ترقی یافتہ تھے۔ موجودہ دور میں مایا تہذیب کی شہرت کا ایک سبب ان کا کیلنڈر بھی ہے۔ جس کے مطابق 21 دسمبر، 2012ء میں دنیا کا اختتام ہونا تھا۔ گو کہ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ کیلنڈر کے سائیکل کا غلط مطلب لیا گیا۔ کیلنڈر میں 21 دسمبر 2012 میں دنیا کے اختتام کی پیشنگوئی نہیں بلکہ ستاروں کے ترتیبی عمل میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ تھا۔

مایا تہذیب کا ترتیب دیا گیا کیلنڈر گاڑی کے اوڈ میٹر کے طرز کا تھا۔ جس کے مطابق تاریخ کی ابتداء 11 اگست، 3114ء قبل از مسیح میں ہوئی تھی۔ کیلنڈر کی کل گنجائش 5125 سال بنتی ہے۔ جس کے حساب سے کیلنڈر کا سائیکل 21 دسمبر 2012ء کو ختم ہوگیا۔ جس کی بنا پر کچھ لوگوں نے اس کو دنیا کے اختتام سے تعبیر کیا۔ اس موضوع پر ہالی وڈ میں ایک فلم بھی “2012” کے نام پر بنائی گئی۔ جس میں دنیا کو تباہ ہوتے دکھایا گیا۔ چائنہ اور کچھ دوسرے ملکوں میں لوگوں نے اس پر اتنا یقین کیا کہ مرنے کی تیاری بھی کر لی۔

 

مایا تہذیب میں لوگ دنوں اور موسموں کا حساب کرنے کے لیے تین مختلف کیلنڈر استعمال کرتے تھے۔ لیکن باقی دو کیلنڈر کم دورانیے کے ہوتے تھے۔ مایا تہذیب کے لوگوں میں رائج الفاظ چائنیز زبان کے الفاظ کی طرح تھے۔ جن کی تعداد 800 تک تھی۔ یہ الفاظ دیکھنے میں نقش و نگار اور تصویریں لگتی تھیں۔ دریافت کے کئی برسوں تک ماہرین کے لیے یہ محمل نقش و نگار ہی تھے۔ جن کو کئی برس کی تحقیق کے بعد کامیابی سے سمجھا اور پڑھا جا سکا۔

اس علاقے میں موجود آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ 1221ء میں خانہ جنگی شروع ہونے سے چیچن اٹزع کی حکومت کمزور ہو گئی اور مرکزیت دوسرے شہر یوکٹان کی طرف منتقل ہو گئی۔ چیچن اٹزع کے آثار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک مذہبی شہر تھا۔ لیکن کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ شہر کے تعمیر سے پہلے بھی یہ جگہ مذہبی اعتبار سے اہمیت کی حامل تھی۔ شہر کی بڑی عمارتوں میں سے صرف تین کے آثار سلامت ہیں۔ جس میں جنگجوؤں کا مندر، کاسٹیلو، اور عظیم رقص گاہ شامل ہیں۔

 

سال 2007 میں دنیا کے ساتھ عجائیات کی فہرست میں شامل کیے جانے والے اس قدیم شہر کو ابھی تک پوری طرح دریافت نہیں کیا جاسکا۔ اب حال ہی میں جدید ٹیکنالوجی سے بنائے گئے نقشوں کی مدد سے شہر میں مزید عمارتوں کے آثار ملے ہیں۔ ہر سال تقریبا 12 سے 20 لاکھ سیاحوں کی میزبانی کرنے والے اس شہر کو شہرت اس وقت ملی۔ جب 1843ء میں ایک سیاح نے اپنی کتاب میں اس شہر کے آثار کا ذکر کیا۔ اس قدیم ورثے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 1983 میں اقوام متحدہ نے اس شہر کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں