16

کلوزیم آف روم دنیا کے سات عجوبوں میں سے “پانچواں عجوبہ”۔

عجائبات دنیا میں سے ایک اور عجوبہ جسے کلوزیم آف روم کہا جاتا ہے۔ کلوزیم آف روم ایک ایسی عمارت ہے جو دو ہزار سال پرانی ہے اور اسے عجوبہ کیوں کہا جاتا ہے اس کے بارے میں کچھ تاریخی اور دلچسپ معلومات آپ کو بتاتے ہیں۔

کلوزیم آف روم ایک ایسی عمارت ہے جس کے فن تعمیر کے بارے میں سن کر آپ انسان ہونے پر رشک کریں گے وہیں اس عمارت سے منسوب انتہائی لرزہ خیز اور ظلم و بربریت سے بھری داستانیں سن کر آپ کو انسان ہونے پر بھی شرمندگی ہوگی۔ اس عظیم تماشا گاہ جسے ابتداء میں “شاہی بیضوی تھیٹر” کا نام دیا گیا تھا۔ اسے پہلی عیسوی صدی کے دوران تعمیر کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب رومی سلطنت شمال میں برطانیہ سے لے کر جنوب میں افریقہ تک اور مغرب میں قسطنطنیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔

رومی سلطنت کے اس سنہری دور میں میں اس عظیم تماشہ گاہ کا افتتاح 80 عیسوی میں “رومی شہنشاہ ٹائٹس” نے کیا اور اسے سلطنت کے مرکز کا مقام حاصل ہو گیا۔ اس عظیم تماشا گاہ کی تعمیر 72 عیسوی میں شروع ہوئی اور 80 عیسوی میں جا کر مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر کا آغاز “بادشاہ ویسوسین” کے حکم سے ہوا تھا اور اس کی تکمیل اس کے فرزند ٹائٹس کے دور میں ہوئی تھی۔

 

ابتدائی دور میں اسے تفریحی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ اس تفریح کا مقصد انسانوں کے ہاتھوں جانوروں کا قتل یا پھر انسانوں کے ہاتھوں انسانوں ہی کا قتل تھا۔ 80 عیسوی میں جب اس کا افتتاح ہوا تو اس کی افتتاحی تقریبات اور تماشے سو دن تک جاری رہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں جانور اور تقریبا دو ہزار جنگجوؤں کو زندگی سے محروم ہونا پڑا۔ اس تماشا گاہ میں ہونے والے اکثر کھیل تماشے سارا دن جاری رہتے تھے۔ صبح کے وقت مزاحیہ نوعیت کے کھیل ہوتے اور دوسرے ملکوں سے لائے گئے عجیب و غریب جانوروں کی نمائش کی جاتی۔ دوپہر کے بعد پیشہ ور جنگجوؤں کے درمیان مقابلے ہوتے تھے زیادہ تر تماشوں اور کھیلوں میں موت ایک اہم کردار ہوا کرتی تھی۔ پیشہ ور جنگجو یہاں تو متعین کردہ مجرم ہوتے تھے یا پھر قیدی یا پھر غلام۔ انہیں جانوروں میں سے یا ایک دوسرے کے ساتھ لڑایا جاتا حتی کہ کسی ایک کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑتے۔ ان کے ہتھیاروں میں جال، تلواریں، برچھے، نیزے اور آتشی لکڑیاں شامل ہوتی تھیں۔ کبھی کبھار رومی شہری یا عورتیں بھی کچھ دیر کے لئے اس لڑائی میں شرکت کرتیں۔ لیکن ان کی شمولیت صرف نمود و نمائش کے لیے ہوتی تھی۔

 

تفریح کی ان تمام خونی تماشوں کا مقصد در اصل سیاسی تھا۔ ان کے ذریعے مقامی رومیوں کو یہ تربیت دی جاتی کہ جب وہ کسی ملک میں حملہ آور ہوں تو کس طرح لڑیں۔ اور جب دوسرے ممالک سے لوگ ان کے ملک میں آئیں تو وہ رومی شہریوں کی طاقت اور حوصلے کے مناظر دیکھ سکیں۔ آخرکار جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا یہ خونخوار سلسلہ 404 عیسوی میں “بادشاہ ہونررس” کے حکم پر غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ لیکن جانوروں سے مقابلوں کا سلسلہ ایک صدی تک مزید جاری رہا۔

اس عمارت کا فن تعمیر بھی ایک نادر نمونہ ہے۔ قدیم وقتوں میں بنائی گئی بیضوی شکل کی یہ تماشا گاہ مکمل کرنے میں تقریبا دس سال کا عرصہ لگا۔ اس دور میں یہ اپنی طرز کی سب سے بڑی عمارت تھی اس کی بلندی 48 میٹر، لمبائی 188 میٹر اور چوڑائی 156 میٹر تھی۔ تینوں بیرونی فرشوں میں سے ہر ایک میں 80 محرابیں تھیں۔ اکھاڑے کا لکڑی سے بنا فرش ریت سے ڈھک دیا جاتا تھا اس کی بیضوی شکل کے باعث کسی بھی کھلاڑی کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کسی کونے میں پناہ لے سکے۔ اس طرح تماشائی بھی دائرے میں بیٹھنے کی بدولت تمام تر مناظر آسانی سے دیکھ سکتے تھے۔


اس عمارت کی تعمیر میں جو سفید چونے کا پتھر استعمال ہوا ہے اس کی مقدر ایک لاکھ مکعب میٹر سے بھی زیادہ تھی۔ آج اکھاڑے کا فرش باقی نہیں رہا البتہ اس کی دیواروں اور راستوں کے کھنڈرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سرنگیں بھی ابھی موجود ہیں جن کے ذریعے تماش گاہ سے پانی نکالا بھی جا سکتا تھا اور اسے پانی سے بھرا بھی جا سکتا تھا۔ اسے پانی سے اس لیے بھرا جاتا تھا تاکہ بحری مقابلے یہاں منعقد کروائے جا سکیں۔

یہ تماشا گاہ بڑی ذہانت سے تعمیر کی گئی تھی کیونکہ اس میں بہت سی ایسی خوبیاں نظر آتی ہیں۔ جو جدید دور کے اسٹیڈیمز کا حصہ ہیں۔ نشستوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا چبوترا رومی سینٹرز کے لیے مخصوص تھا اور اسی میں بادشاہ کے لیے تکیوں سے آراستہ ایک حصہ تھا۔ اس چبوترے سے اوپر آمراء کے لیے مخصوص جگہ ہوا کرتی تھی۔ تیسرے درجے میں مزید تین جز تھے، پہلا نچلا حصہ عام شہریوں کے لیے ہوا کرتا تھا اور اس کا اوپر کا حصہ غریب شہریوں کے لیے۔ انتہائی اوپر ایک تھوڑا سا رقبہ تھا جہاں صرف کھڑا ہوا جا سکتا تھا اور یہ حصہ کم تر طبقے کی عورتوں کے لئے تھا۔

 

اس تماشا گاہ کا ایک اور منفرد پہلو اسے ٹھنڈا رکھنے کا نظام تھا۔ جو ایک صاحبان ہوتا تھا یہ بہت بڑا رنگین ترپال تھا جسے موسم کے مطابق تماشائیوں کے سروں پر پھیلا دیا جاتا تھا تاکہ وہ موسم کی شدت سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ رسیوں سے بنا ایک جال تھا۔ جس کے درمیان سوراخ اور باقی حصہ کھردرے کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ ایک چھت کی شکل میں اکھاڑے کے دو تہائی حصے پر پھیلا اور مرکز کی طرف جھکا ہوا تھا۔ تاکہ ہوا کو گھیر کر تماشائیوں تک پہنچا سکے۔ مخصوص چبوتروں پر موجود مزدور حکم ملنے پر اس کی رسیاں ہلایا کرتے تھے۔

یہ تماشا گاہ 217 عیسوی تک استعمال میں رہی۔ پھر آسمانی بجلی کے گرنے سے لگنے والی آگ نے اسے تباہ کر دیا اور اور یہ خستہ حال ہوگئی۔ 442 عیسوی سے لے کر 1349 عیسوی کے دوران آنے والے چار زلزلوں نے عمارت کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد اس عمارت کو ایک قلعے کی شکل دے دی گئی۔ اس عظیم تماشا گاہ میں نشستوں کی ترتیب بھی انسانی فن تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 

دراصل اس عظیم تماشا گاہ کی جسامت رومی سلطنت کی وسعت، شان و شوکت اور فنوں کی نمائندگی کرتی تھی۔ دنیا بھر سے لوگ اس عمارت کی آب و تاب دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ سینکڑوں انسانوں کی اجتماع کے باوجود اس جسیم اور وسیع عمارت کے اندر آنا جانا حیران کن طور پر آسان تھا۔ کیونکہ اس میں لوگوں کی آمدورفت میں آسانی اور سہولت کا باقاعدہ ایک نظام تھا۔ تماشا گاہ کے مختلف حصوں کے اپنے نمبر تھے جو ٹکٹوں پر لگے ہوے ہندسوں کے مطابق ہوتے تھے۔

جنگجو یا مناظرانہ اپنی قوت اور روب و دب دبے کے اظہار کا یہ ایک نادر اور شاندار تعمیراتی نمونہ تھا۔ اس یاد گار اکھاڑے کے باہر واقعہ آرائشی ستون اس عظیم عمارت کی ساخت اور رومی آبادی کے درمیان ایک مناسبت قائم کرتے تھے۔ ان آرائشی ستونوں میں ہمیں تین طرح کے روایتی ترتیب نظر آتی ہے۔ سب سے وزنی “ڈیورک” ستون سب سے نچلی سطح پر جبکہ کم وزن دار “آیونیاء” اور “کرانتھی” ستون بلترتیب ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ یہ بہت ضروری تھا کہ سب سے وزنی اور قدیم ستون زمین کی سطح پر ہو کیونکہ یہ وہ سطح ہے جہاں پر بادشاہ بیٹھتا ہے۔ جو روم کی ثقافتی طاقت کا مظہر ہے۔

 

تاہم تماشا گاہ کا بیضوی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ تمام تماشائی اپنے سماجی مرتبے سے بالا تر ہو کر تمام مقابلے اور تماشے ملاحظہ کرسکیں۔ نقشے کی ایک اور خوبی اس کے محرابوں کی ترتیب سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ جو عمارت کا وزن اس طرح بانٹ دیتی تھیں کہ تماشہ گاہ زیادہ سے زیادہ بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہو جاتی۔ درحقیقت تماشا گاہ کے محل وقوع نے ایک رومی شہری کو بھی اس قدر متاثر کیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ریاست کا ایک اہم فرد محسوس کرتا تھا۔ اس رومی فن تعمیر کی ایک آخری مثال اس کا تعمیراتی میٹریل تھا جس کی مضبوطی اور پائیداری کیوجہ سے تماشا گاہ کو اتنا بلند بنایا جاسکا۔ نقشہ نویسی اور فن تعمیر کے جو طریقے دو ہزار سال پہلے اس کلوزیم میں استعمال ہوے ہیں۔ وہ اتنے اعلی تھے کہ آج تک دنیا کے معمار وہی تعمیری حربے اور طریقے اختیار کررہے ہیں۔

یہ تھی اس عظیم تماشا گاہ “کلوزیم آف روم” کی دلچسپ تاریخ جو اسے دنیا کے عجائبات میں سے ایک عجوبہ ہونے کا اعزاز دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں