38

دیوار چین دنیا کے سات عجوبوں میں سے “تیسرا عجوبہ”۔

دیوار چین دنیا کے ساتھ عجائبات میں سے ایک عجوبہ ہے۔ تقریبا ہر ایک نے یہ سن رکھا ہے لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کے دیوار چین کیوں اور کس مقصد کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔

دراصل چین کے بادشاہ نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملوں سے بچانے کے لیے ایک دیوار بنانے کی خواہش کی۔ اس وقت چین کے بہت سے دشمن تھے۔ اور اس دیوار کی تعمیر کا مقصد صرف اور صرف دشمنوں کے حملوں سے ملک کو محفوظ رکھنا تھا۔ چین کے شمال میں منگول قوم کا ملک منگولیا آباد ہے۔ اس ملک کے خانہ بدوش ، ڈاکو ، لٹیرے اور کبھی کبھار یہاں کے حکمران بھی جب بھی موقع ملتا چین پر حملہ آور ہو جاتے۔ اور اہل چین کا امن تہس نہس کر دیتے۔

چین کے حکمرانوں نے اس کا تدارک اس طرح سے چاہا کے چین کے شمال میں ایک طویل دیوار قائم کی جائے۔ یاد رہے کہ زمانہ قدیم میں بیرونی حملہ آوروں کو روکنے کے لیے یا تو دیوار رکاوٹ کی شکل میں تعمیر کی جاتی تھی یا شہروں کے ارد گرد خندق کھودی جاتی تھی۔ اس لیے چین والوں نے دیوار کی تعمیر کا فیصلہ کیا۔

آپ یہ جان کر حیران ہونگے اس دیوار کی لمبائی تقریبا 13200 میل ہے اور یہ دیوار بیس سے لے کر تیس فٹ تک اونچی ہے۔ اس کی چوڑائی نیچے سے تقریبا 25 فٹ اور اوپر سے 12 فٹ ہے۔ اور ہر دو سو گز کے فاصلے پر سکیورٹی پوسٹ بنائے گئے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ اس دیوار کے اوپر سے پانچ گھوڑے ایک ساتھ دوڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ قدیم دور میں اس دیوار کا مقصد چین کو سلطنت منگولیا کے حملوں سے بچانا تھا لیکن بعد میں اس مشہور دیوار نے ایک مشہور ترین سیاحتی مقام کی حیثیت اختیار کرلی۔ اور آج لاکھوں لوگ دیوار چین دیکھنے کے لیے چین کا رخ کرتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ جب یہ دیوار ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو اس کی بنیاد سے انسانی ہڈیاں اور انسانی باقیات ملی۔ جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اس زمانے کے لوگوں نے خون جگر سے اور اپنے جانوں کا نذرانہ دے کر اس عظیم الشان شاہکار کو تخلیق کیا۔ اور اس کی تعمیر میں تقریبا دس لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا۔

طویل عمری ، موسمی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کیوجہ یہ دیوار دن بدن اپنا وجود کھوتی جا رہی ہے۔ جس کی بدولت یہاں کے مقامی لوگوں نے اس کے گرے ہوئے حصوں سے اینٹیں نکال کر اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنا شروع کر دی ہے۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے اور چین کے رہنے والے لوگوں پر یہ لازم ہے کہ وہ اسے اپنے آباؤ اجداد کی وراثت سمجھ کر اسکی حفاظت کریں۔ جبکہ سیاحت کے پیش نظر چینی حکومت نے 70 سے 80 کلومیٹر دیوار کو مرمت کروا دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ چین کی دیوار چاند کی سطح سے بھی نظر آتی ہے لیکن یہ ایک مفروضہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ ناسا کا کہنا ہے کہ دیوار چین کی نشاندہی تو کی جا سکتی ہے لیکن انسانی آنکھ سے یہ دیوار نظر نہیں آتی۔ ایک چینی خلاباز کا بھی کہنا ہے کہ یہ دیوار خلا سے نظر نہیں آتی خلا میں سے اس کی نشاندہی تو کی جا سکتی ہے لیکن جب آپ زمین کے مدار سے باہر چلے جائیں تو اس کو دیکھ پانا ناممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں