39

پیسا ٹاور اٹلی دنیا کے سات عجوبوں میں سے “دوسرا عجوبہ”۔

اٹلی کے مشہور پیسا ٹاور کے علاوہ اور بھی بہت سے مینار ایسے ہیں۔ جن کا جھکاؤ دیکھنے والوں کو دانتوں میں انگلیاں دبانے پر مجبور کردیتا ہے۔ مگر پیسا ٹاور ایک ایسا حیران کن مینار ہے۔ جس کی پراسراریت میں آئے روز اضافہ ہوتا رہا ہے۔

پیسا ٹاور اپنے عجیب اور حیرت آنگیز جھکاو کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اور اسے دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک عجوبہ مانا جاتا ہے۔ یہ ایک اطالوی کیھترڈل چرچ کا حصہ ہے۔ جو اٹلی کے شہر ہر پیسا میں واقع ہے۔
قدیم رومن انداز میں اس کا طرز تعمیر چرچ کی وجہ سے خصوصی طور پر بنایا گیا تھا۔ اس میں ایک سمیٹری یعنی قبرستان موجود ہے۔ جس کا مطلب مقدس زمین سے نکالی گئی مٹی کو محفوظ رکھنا ہے۔ مینار کی سب سے بڑی وجہ شہرت اس کا ایک طرف جھکاؤ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ رومن فن تعمیر کا یہ ایک انوکھا باب بھی ہے۔

اس مینار کا تعمیراتی کام 8، اگست، 1173ء کو شروع کیا گیا تھا۔ اس کی کل آٹھ منزلیں ہیں یہ مینار اپنے جھکاؤ کی طرح 183 اعشاریہ 27 فٹ جبکہ بلندی کی طرف 186 فٹ اونچا ہے۔ اور اس میں ابھی بھی وہ پرانی گھنٹیاں موجود ہیں جو کسی زمانے میں اس کی تعمیر کے وقت لگائی گئیں تھیں۔ مگر اب وہ ناقابل استعمال ہو چکی ہیں۔

اس حیرت انگیز مینار کی تعمیر دو سو سال یعنی دو صدیوں میں مکمل ہوئی۔ تعمیر میں اس قدر تاخیر کی وجہ اس میں ہونے والے مسلسل تعمیراتی مسائل تھے۔ جو وقتن فوقتن رونما ہوتے رہے۔ مثلا جب اس کی ایک منزل تعمیر ہوچکی تھی تو اچانک تعمیراتی عملے کو معلوم پڑا کے مینار ایک طرف مٹی میں دھنستا جا رہا ہے۔ اس پر مزید تعمیر روک دی گئی اور سو سال تک یہ تعمیر محض اسی لئے رکی رہی کہ ماہرین کے مطابق مٹی پختہ ہونے کے بعد ہی دوسری منزل استوار کرنے کا آغاز کیا جا سکے گا۔ تب تک پہلی منزل کا جھکاؤ بھی مٹی کے خشک ہونے سے ختم ہو جائے گا۔ ایسے جھکاو کو اس انداز میں ختم کرنے کی کوششیں 1275 عیسوی میں کی گئی تھی۔

 

لیکن جب 1301 میں تعمیر کا سلسلہ اس سر نو شروع کیا گیا۔ اس وقت تک اس کی چھ منزلیں تعمیر ہو چکی تھیں۔ جبکہ 1350 میں مینار کی باقائدہ بحالی کا کام مکمل ہوا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مینار اپنی مقررہ جگہ سے اب تک چھ میٹر جھک چکا ہے۔ اور اس کے جھکاو کو روکنے کی تمام تر کوششیں کے باوجود یہ مسلسل ایک طرف ٹیڑھا ہوتا جا رہا ہے ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ارسال 0 اعشاریہ 25 انچ یعنی ایک ملی میٹر کی رفتار سے جھک رہا ہے۔ اس مینار کے مسلسل جھکاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ مینار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زمین بوس ہو جائے گا۔

اس مینار کو 1990 میں تحفظاتی وجوہات کے پیش نظر عوام کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران اس کی مسلسل جھکاؤ کو روکنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ جس پر 20 ملین پاؤنڈ خرچ کیے گئے۔ ماہرین نے اس کے ایک جانب سے ستر ٹن مٹی نکال لی ہے اور اب یہ مینار اڑتالیس سنٹی میٹر تک سیدھا ہو چکا ہے۔ اور پہلی بار اس نے حرکت کرنا بند کی ہے۔

اس حوالے سے ماہرین دعوہ کرتے ہیں کہ اب یہ مینار تقریبا آئندہ تین سو سال تک اپنا بوجھ برداشت کر سکے گا۔ اور اسے دوبارہ 2001 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ وہی مینار ہے ہے جہاں سے مشہور سائنسدان “گلیلیو نے کشش ثقل” کے بارے میں مختلف چیزوں کو پھینک کر اپنے تجربات کیے تھے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں